Best Recitation

Qasidah Burda Shareef – Urdu

وہ پڑوسی زی سکم کے کیا تجھے یاد آگئے آنسوؤں میں ڈھل کے قطرے خون کے بہنے لگے

کاظمہ سے کوئی نامہ لے کے آئی ہے ہوا یا چمک اٹھا ہضم پھر بجلیوں کی کوند سے

کس لئے روکے سے پھر آنسو ترے رُکتے نہیں ختم ہوتے ہی نہیں کیوں درد وغم کے سلسلے

دیدہ تر سوز ہائے دل سے جب ظاہر ہے سب عشق کا یہ راز پھر کیسے چھپائے سے چھپے

عشق کا مارا ہے تو بربادیوں کا نوحہ گر قصه بان و علم بے خواب کرتے ہیں تجھے

غیر ممکن ہو گیا تجھ سے چھپانا عشق کا چشم نم ، پژمردہ چہرہ ہیں گواہی کے لئے

بہتے اشکوں سے جو گالوں پر لکیریں پڑگئیں شاخ گل ، شاخ علم کے رنگ پہلے پڑ گئے

جلوہ ریزی خواب میں محبوب کو تڑپا گئی ٹوٹ کر ہر اک خوشی الفت نے سارے غم دیئے

یہ ملامت چاہنے والوں پہ کیوں انصاف کر معذرت چاہوں گا تجھ سے یہ رویہ چھوڑ دے

تو بھی میرے حال سے واقف ہوا اور غیر بھی اب کہاں چھٹکارا مجھ کو عشق کے آزار سے

لوگ سمجھاتے بجھاتے ٹوکتے بھی ہیں مگر ایسی باتوں پر کہاں عاشق نے کان اپنے دھرے

ایک عاشق کے لئے تھی بے اثر بے فائدہ اس بڑھاپے کی نصیحت معتبر ہوتے ہوئے

خواب غفلت میں رہا تھا نفس بدخو کے سبب کچھ نہ تھا پیرانہ سالی کا ڈراوا بھی مجھے

میہماں بن کر مری پیرانہ سالی آگئی جمع کرتا نیکیاں کچھ تو تواضع کے لئے

اس کی عزت رکھ نہ پاؤں گا اگر یہ جانتا -میں سفیدی ڈھانک لیتا سر کی کالے رنگ سے

ہے کوئی روکے جو میرے نفس کو دے کر لگام جیسے کوئی اسپ سرکش کو سیدھا کر روک لے

نفس خواہش پھر کرے گا تو گنہ جتنے بھی کر تو نے دیکھا ہے کسی کا پیٹ پُر ہوتے ہوئے

دودھ ن پتا ہی رہے گا نفس ہے اک شیر خوار وہ کہاں سے چھوڑتا ہے تو پلانا چھوڑ دے

نفس کو قابو میں رکھ حاوی نہ ہو جائے کہیں عیب یہ بھر دے گا تجھ میں یا مٹادے گا تجھے

نفس کا منہ باندھ کے رکھ ورنہ یہ پھر جائے گا نیکیوں کی کھیتیاں حُسنِ عمل کے سلسلے

زہر قاتل کو یہ بولے گا کہ ہے آب حیات نفس کے بہکاوے میں آنے سے پہلے سوچ لے

وہ شکم سیری کہ ہو فاقہ کشی دونوں سے ڈر ویسے فاقوں میں زیادہ ہی ہیں مشکل مرحلے

ہو کے نادم رو کے آنکھوں سے مٹا نقش حرام اور توبہ ایسی کر جو عمر بھر قائم رہے

نفس اور شیطان کی تو بات کوئی بھی نہ مان وہ نصیحت بھی کریں گے تو بہ رنگ دیگرے

وہ عدو ہو کہ حکم طاعت نہ کر ان کی قبول تو تو نا واقف نہیں ان کے فریب دمکر سے

میری توبہ ایسی باتوں سے عمل جن پر نہ ہو بانجھ سے اولاد کی امید بے معنی لگے

نیکیوں کا حکم کیا دوں خود عمل پیرا نہیں ہر نصیحت میری ہوگی بے اثر تیرے لئے

نقل کی صورت میں کیا زادِ سفر میں نے کیا فرض پڑھ لی ہیں نمازیں فرض ہی روزے رکھے

سنت بیداری شب پر کہاں قائم ہوں میں ہائے اللہ وہ نماز شب میں پا سوجھے ہوئے

ایسا فاقہ باندھنا پڑتا تھا پتھر پیٹ پر اور بسا اوقات پتھر ایک سے دو بھی ہوئے

دھول تھے پائے متقدس کی وہ سونے کے پہاڑ بے نیازی تھی کہ آپ ان سے کنارہ کش رہے

لاکھ دنیاوی تقاضے سامنے آئے مگر آپ کی پاکیزہ نفسی پر نہ غالب آسکے

کب طبیعت آپ کی مائل تھی دنیا کی طرف جو بھی ہے وہ سب کا سب ہے آپ ہی کے واسطے

فخر موجودات ، صدر مجلس کون و مکان آپ سے منسوب ہیں اعلیٰ سے اعلیٰ مرتبے

حکم نیکی کا دیا ، روکا گناہوں سے ہمیں آپ بالکل خاص تھے رشد و ہدایت کے لئے

آپ ہیں ایسے نبی جو ہیں شفاعت کے دھنی جس سے امید کرم مشکل میں رکھی جاسکے

آپ کی آواز پر اپنائی جس نے او حق تھام لی اس نے وہ رسی جو نہ کاٹے سے کٹے

آپ اعلیٰ مرتبہ ہیں سرور کونین ہیں انبیاء بھی آپ کا علم وکرم کب پاسکے

انبیاء ہیں ملتمس، بحرِ کرم کا ایک گھونٹ اور اس باران رحمت کا کوئی قطرہ ملے

سب کھڑے ہیں انبیاء رکھ کر مراتب کا لحاظ علم کے دفتر کے آگے صورت نقطہ بنے

دست قدرت کا حسیں شہکار فخر دو جہاں سب سے ! سے بڑھ کر آپ ہی محبوب اللہ کے ہوئے

آپ کا ہر ایک جوہر آپ ہی : جوہر آپ ہی پر ہے تمام آپ کی یکتائی پھر تقسیم کیسے ہو سکے

تو نصاری کی طرح دعوے نہ بے بنیاد کر ڈوب جا مدح محمدؐ میں ہمیشہ کے لئے

آپ سے منسوب کر دے سب کی سب سچائیاں آپ کی تعریف میں الفاظ سارے جوڑ دے

انتہا جس کی نہ حد ایسا کمال ایسی نظر آپ کے اوصاف کا کوئی احاطہ کیا کرے

معجزوں کو مل گئی ہوتی جو عظمت آپ کی مُردے زندہ ہو نہ جاتے نام ہی سے آپ کے

اتنا ہی سمجھایا جتنا کہ سمجھ سکتے تھے ہم ورنہ کیا گھبرانہ جاتے ہم زیادہ بوجھ سے

اس حقیقت کو سمجھنے سے ہیں قاصر سب کے سب ہے نہ تھا ہوگا نہ کوئی بھی برابر آپ کے

دیکھنے میں دور سے چھوٹا تو لگتا ہے مگر دیکھ پائے گا کوئی سورج کو کیا نزدیک سے

مطمئن ہیں آپ کے حسنِ تصور ہی سے ہم آپ کیا ہیں کیسے جانیں خواب غفلت میں پڑے

آپ بھی انسان ہیں معلوم ہے ہم کو مگر مرحبا ، صد آفریں ، رہتے وہ اعلیٰ آپ کے

معجزوں پر معجزے جتنے بھی لائے انبیاء تھے وہ سارے آپ ہی کے نور سے نکلے ہوئے

آپ خورشید درخشاں، انبیاء سارے نجوم گویا سب ظاہر ہوئے ظلمت مٹانے کے لئے

ماه کامل، غنچہ تر ، جیسے دریائے کرم آپ سے وابستہ ہیں لطف وکرم کے سلسلے

آپ تنہا پھر بھی واللہ آپ کا رعب و جلال جیسے کوئی فوج کا دستہ ہو پیچھے آپ کے

ہے تکلم زر بکف، دندان ہیں لعل و گہر آپ ہیں موتی صدف ہیں نور برساتے ہوئے

رشک عنبر ایسی بُو پھوٹے مزار پاک سے خوش نصیبی اس کی جو سونگھے یا بوسہ دے اسے

باعث رحمت رہی ہے آپ کی ساری حیات چل پڑے ہیں آپ سے لطف وکرم کے سلسلے

آمد سرکار کا مطلب انہیں معلوم تھا اہل فارس حق کے منکر خوف سے گھبرا گئے

قصر کسری میں ادھر گویا تہلکہ مچ گیا فوج ٹکڑے ہوگئی کنگورے چودہ گر پڑے

بجھ گیا فارس کا وہ آتش کدہ اک آن میں چشمہ پر آب سُوکھا دیکھتے ہی دیکھتے

اور سادہ کا سمندر اپنی تہہ کو آگیا لوگ جاتے غیض وغصہ میں وہاں سے لوٹتے

آگ پُر نم ہوگئی افزودگی غم سے جب اس کے سب اثرات پانی میں نمایاں ہو گئے

اس طرف جنات تھے مصروف فریاد و فغاں نور حق ظاہر ہوا اور لفظ و معنی وا ہوئے

وہ تو بہرے تھے وہ سننے سے رہے خوش خبریاں وہ تو اندھے تھے چمک کیا بجلیوں کی دیکھتے

کاہنوں نے بھی کہا اب ان کا دیں خطرے میں ہے باوجود اس کے وہ بہرے اور اندھے ہی رہے

ٹوٹتے تارے انہوں نے چرخ میں دیکھے اگر فرش پر دیکھا بتوں کو ٹوٹ کر گرتے ہوئے

بے تحاشہ بے سروپا جو بھی تھے شیطان سب آگے پیچھے پے بہ پے اک ایک کر کے بھاگ اٹھے

ابرہہ کی فوج کا سا حال شیطانوں کا تھا آپ کے ہاتھوں کے کنکر، ان کے حق میں تیر تھے

آپ کے ہاتھوں سے نکلا ایک اک کنکر بھی یوں حضرت یونس کو کو جوں مچھلی نے اُگلا پیٹ ۔ سے

آپ کا پاکر اشارہ جذبہ تعمیل میں خدمت اقدس میں آجاتے شجر کھنچتے ہوئے

اور تنے خط کھینچتے شاخیں بناتیں برگ وگل خوش نما منظر سا بن جاتا نگاہوں کے لئے

ان درختوں کا وہ سایہ ابر پارہ کی طرحفا آپ پر سایہ فگن رہتا بچاتا دھوپ سے

شق ہوئے اس چاند کی کھاتا ہوں میں سچی قسم خاص نسبت ہو گئی ہے آپ کے دل سے اسے

جب اکٹھا تھے وہ غارِ ثور میں خیر و کرم کس طرح کفار ان کو دیکھنے سے رہ گئے

صدق اور صدیق تھے روپوش دونوں غار میں پر یہاں کوئی نہیں کفار کہتے چل دیئے

غار کے منہ پر وہ جالا اور انڈے دیکھ کر کیا یقیں آتا کسی کو آپ ہیں اندر چھپے

ایسی حکمت سے خدا نے کی حفاظت آپ کی اسلحہ جات اور قلعوں سے بھی مستغنی ہوئے

آپ کی میں نے پنہ مانگی تو دی ہے آپ نے ظلم و استبداد جب بھی مجھ پہ دنیا نے کئے

جب متاع دین و دنیا کی طلب مجھ کو ہوئی آپ ہیں بحر سخا، مجھ کو نوازا آپؐ نے

حق سے کیوں انکار حق ہے وحی کا آنا خواب میں بند تھیں آنکھیں ، دریچے دل کے تو بیدار تھے

کیفیت ساری ہے یہ معراج کی انکار کیا اور ہیں یہ سب نبوت کے کمالی سلسلے

وحی کا آنا بھی رہا تائید سے اللہ کی غیب سے بھی آپ واقف تھے اسی تائید سے

لمس دست پاک سے پائی ہے بہتوں نے شفا اور کتنے ہی رہا جنات کے شر سے ہوئے

قحط سرسبزی میں بدلا از طفیل مصطفی تیرگی میں روشنی چمکی کرم سے آپ کے

ایسے برسا تھا دعا سے آپ کے ابرِ کرم جیسے دریا وادی سنگلاخ میں بہنے لگے

میں کہاں کا مدح خواں میرے نبی کے معجزات ہیں چراغ راہِ منزل قافلوں کے واسطے

قدر بڑھ جاتی ہے موتی کی اگرچہ ہار میں ہار سے کٹ کر بھی وہ موتی کا موتی ہی رہے

مدح گوئی میں ہے عاجز قوتِ اظہار تک آپ کے اخلاق ہیں بالا ہماری فہم سے

آیتیں قرآن کی بے مثل ہیں تو کیا سبب ان میں روشن وصف ہیں اللہ کے محبوب کے

کیا کسی اک عہد سے یہ آیتیں منسوب ہیں کیا ہمیں قصے نہیں ملتے ثمود و عاد کے

معجزہ ان آیتوں کا ذہن میں رہ جائے گا بھول بھی جائیں جو دیگر انبیاء کے معجزے

منصف و منکر کی سب بے جاہیں دخل اندازیاں کوئی گنجائش نہیں رکھتیں گماں کی اس لئے

سرکشی جس نے بھی کی آیات قرآنی کے ساتھ وہ خمیدہ پر ہوا آخر کو ان کے سامنے

معترض کے واسطے حسن بلاغت اس طرحجیسے غیرت مند کوئی ڈھال محرم کے لئے

معنی آیات قرآنی بظاہر موج بحر اصل میں لعل و گہر، موتی جواہر، آئینے

لطف ، شیرینی، حلاوت کے عجائب ساتھ ساتھ کیسی اکتاہٹ کوئی صبح دمسا پڑھتا رہے

جب تلاوت سے تری آنکھوں کو ٹھنڈک مل گئی کیا ہی اچھا ہو کہ اب اللہ کی رسی تھام لے

آتش دوزخ کے ڈر سے جو تلاوت تو نے کی کر گئی ایسا اثر وہ سرد شعلے پڑ گئے

ہیں یہ وہ آیات جن سے دھوئے جاتے ہیں گنہ وہ سیہ چہرے گنہگاروں کے روشن ہو گئے

جو ہمیشہ راستہ سیدھا دکھاتی ہیں ہمیں بس یہی بنیاد ہے انصاف کرنے کے لئے

منکر قرآں وہ حاسد صاحب عقل وخرد ہے تجاہل کے سبب وہ دور حق کی بات سے

کس طرح سورج کو دیکھے، ہے اسے آشوب چشم آب شیریں تلخ تر بیمار کے منہ کو لگے

کیا کہیں وہ آپ کے دربار کا فیضانِ عام کیا گدا ، کیا شاہ، دونوں ہی یہاں آتے رہے

آپ کی ذات مبارک لائق صد اعتبار نعمت عظمی ہے گویا مغتنم کے واسطے

جس طرح تاریکیوں میں ماہ کامل کا سفر سوئے اقصیٰ آپ مکہ سے شبِ اسرئی چلے

منزلیں طے کرتے کرتے پہنچے اس اونچائی پر جو تصور سے پرے ہے کیا سمجھ میں آسکے

مسجد اقصیٰ میں وہ حاصل ہوا ہے مرتبہ سارے نبیوں پر مقدم آپ ہی مخدوم تھے

سیر کی ہے آپ نے اس شان سے افلاک کی صف به صف سارے فرشتے آپ کے ہمراہ تھے

اور پہنچے اس مقام اعلیٰ وارفع پر آپ جانہیں سکتا جہاں کوئی سوائے آپ کے

وصل سے آنکھوں نے دیکھا جلوہ مستور کو اور اسرارِ نہاں سب آپ پر ظاہر ہوئے

فخر والی مشترک جو نئے نہ تھی حاصل ہوئی بھیڑ والے جو نہیں تھے مرتبے ایسے ملے

آپ کے درجات اعلیٰ آپ اعلیٰ مرتبت ہیں بعید از فہم سارے ہی مقامات آپ کے

گویا ہم سب کے لئے ہے مژدہ راحت رساں جو ستوں ہم کو ملا وہ کب گرائے سے گرے

آپ کو اللہ نے افضل رسولوں میں کیا امتوں میں امتی ہم سب سے افضل ہو گئے

کانپ اٹھے دشمن سبھی ملتے ہی بعثت کی خبر بکریاں گھبرا گئیں سب شیر کی آواز سے

معرکوں میں دشمنان حق کی یہ حالت رہی وہ تھے نیزوں پر یا کندوں پر تھے ٹکڑے گوشت کے

جنگ کی ہیبت تھی لیکن رشک ان اعضاء پہ تھا ساتھ اپنے جو عقاب اور گدھ اٹھا کر لے گئے

دهشت و ہیبت میں فکر وخوف میں ڈوبی ہوئیں ماه حرمت تک وہ ایسی کتنی راتیں کاٹتے

صحن گلشن میں گیا اسلام مہماں کی طرحاس کو اپنانے یا پھر اس کو ہی کھانے کے لئے

تیز رو گھوڑوں پر نکلی آپ کی جزار فوج تند رو امواج دریا تھے بہادر آپ کے

وہ سبھی مقبول حق تھے سرفروشانِ نبی کفر کی جڑ کاٹنے تیغ برہنہ ہو گئے

جہد پیہم کا نتیجہ تھا کہ حق ظاہر ہوا غربتیں جاتیں رہیں بچھڑے ہوئے بھی مل گئے

ملت اسلامیہ ہر شر سے اب محفوظ تھی بیوگی کیسی ، یتیمی کیا ، سہارے مل گئے

دشمنان حق سے پوچھو عاشقانِ حق کا حال ان سے ٹکرانے کے سارے عزم خاکستر ہوئے

یاد ہے جنگ احد اور غزوہ بدر و حنین وہ کہیں گے اہل باطل کس قدر مجبور تھے

گھونپتے وہ تیغ اپنی سینہ دشمن میں یوں جب نکلتی تو نکلتی خون کی سرخی لئے

دشمنوں پر کیا نشانہ ان خالی بھی گیا زخم کاری اُن پہ کرتے خوب اپنے دار سے

اسلحہ رکھتے لیکن امن کے تھے پاسدار کفر کانٹوں سے بھرا یہ تھے گلابوں سے بھرے

فتح پا کر بھی وہی تھا ان زرہ پوشوں کا حال جیسے غنچے ہوں لحاف نرم میں لیٹے ہوئے

ایسا جم کر بیٹھتے گھوڑوں پہ جوں ٹیلے کی گھاس وه رکاب وزین کے بھی کب بھلا محتاج تھے

سوچتے تھے ایسا دشمن جنگ کے میدان میں ہم ہیں انسانوں میں یا ہیں چارپایوں میں گھرے

جس کو حاصل ہے مدد اللہ کے محبوب کی شیر بھی حاضر رہے گا اس کی طاعت کے لئے

فاتح و منصور ہیں سارے غلامان رسول آپ کے دشمن ہوئے جو اُن کے منہ کالے ہوئے

آپ نے امت کی یوں کی ہے حفاظت جس طرحنیستاں میں شیر اترے اپنے بچوں کو لئے

آپ کے گستاخ سے کلمات رب نے جنگ کی اور ثبوت ایسا دیا دشمن کے سرخم ہو گئے

وہ جہالت کا زمانہ آپ اُمی اور یتیم معجزہ تھا جو ادب میں علم میں یکتا ہوئے

یہ قصیدہ کاش ہو میرے لئے وجہ نجات میں نے کتنے ہی کئے ہوں گے گنہ چھوٹے بڑے

پڑ گیا ہے طوق گردن میں گناہوں کے سبب مجھ کو دے تشبیہ قربانی کو لائے اونٹ سے

شعر گوئی ، خدمت ارباب دنیا کا صلہ کیا ملا مجھ کو ، گناہوں کے یہ کالے سلسلے

نفس نے جو بھی کیا سودا خسارے کا کیا نعمتیں کھوڈا لیں سب دو دن کی لذت کے لئے

جس نے دنیا کو خریدا آخرت کو چھوڑ کر اپنے دامن میں فقط نقصان ہی اس نے بھرے

میں گنہگار ازل، مانا مگر ممکن نہیں مجھ سے ٹوٹیں عہد و پیماں آپ سے جو بھی ہوئے

آپ جیسا داد رس کوئی نہیں ہے اور پھر نسبت نام محمد بھی ہے بخشش کے لئے

آپ کیجئے دستگیری میں رہوں ثابت قدم ور نہ محشر میں پھسل ہی جائیں گے پاؤں مرے

بخششوں کی آپ سے امید کر بیٹھے کوئی کیسے وہ محروم رہ جائے کرم سے آپ کے

نعت کی برکت ہے یہ یہ ذکر نبی کا فیض ہے سرخرو ہوں ہر جہاں میں آپ کی امداد سے

مہرباں ہر ایک پر تھا سایہ ابر کرم بارشیں ہوتی ہیں جیسے ہر کسی کے واسطے

زیب وزینت کی تمنا ہے نہ دنیا کی طلب کس لئے میں ہاتھ پھیلاؤں حرم کے سامنے

ایسا کوئی بھی نہیں ہے جس کی میں مانگوں پناہ حامل تاج شفاعت اک سوائے آپ کے

میرے باعث کم نہیں ہوگی وجاہت آپ کی بنام مستقم ظاہر ہو جب انوار وہ بنا سے

آپ ہی کی بخششیں ہیں آخرت، عقبی سبھی علم ہے لوح و قلم کا آپ ہی کے علم سے

کس لئے مایوس ہے کتنے بڑے بھی ہوں گنہ آپ کی بخشش سمندر اور وہ قطرے اُوس کے

رحمتیں جب اپنی بانٹے گا خدائے عز وجل عین ممکن ہے کہ ان سے میرا دامن بھی بھرے

میری اس امید کو میرے یقیں کو رد نہ کر میرے حق میں بھی ہوں یا رب رحمتوں کے فیصلے

دونوں عالم میں کرم کر بندہ ناچیز پر صبر کھو دیتا ہے جب کوئی مصیبت آپڑے

ابر وہ ہے جس کے لب پر الصلوۃ والسلام تا ابد ہو نہی نمی پاک پر برسا کرے

جب تلک جھولا جھلائے شاخساروں کی ہوا جب تلک ہوتے رہیں گے اونٹ خوش نغمات سے